Showing posts with label Quotes/Advices. Show all posts
Showing posts with label Quotes/Advices. Show all posts

Friday, May 12, 2017

Home For Sale / گھر برائے فروخت

یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا کہ کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں؟ اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں۔ مگر


ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کیلئے اپنا پہلے والا گھر بیچنا چاہا۔ اس مقصد کیلئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا تھا۔ اس شخص نے اپنے دوست کو مدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے گھر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ دے۔




اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح سے جانتا تھا۔ اشتہار کی تحریر میں اس نے گھر کے محل وقوع، رقبے، ڈیزائن، تعمیراتی مواد، باغیچے، سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ اعلان مکمل ہونے پر اس نے اپنے دوست کو یہ اشتہار پڑھ کر سنایا تاکہ تحریر پر اسکی رائے لے سکے۔
 
اشتہار کی تحریر سن کر اس شخص نے کہا، برائے مہربانی اس اشتہار کو ذرا دوبارہ پڑھنا۔ اور اس کے دوست نے اشتہار دوبارہ پڑھ کر سنا دیا۔ اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سن کو یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا کہ کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں؟ اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں۔ مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو۔ مہربانی کر کے اس اشتہار کو ضائع کر دو، میرا گھر بکاو ہی نہیں ہے۔

ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دو، یقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی۔ اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم ان کو گننا ہی نہیں چاہتے۔ ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی اور کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔

کسی نے کہا: ہم شکوہ کرتے ہیں کہ اللہ نے پھولوں کے نیچے کانٹے لگا دیئے ہیں۔ ہونا یوں چاہیئے تھا کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اس نے کانٹوں کے اوپر بھی پھول اگا دیئے ہیں۔ ایک اور نے کہا: میں اپنے ننگے پیروں کو دیکھ کر کڑھتا رہا، پھر ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو شکر کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا۔

اب آپ سے سوال
کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر، گاڑی، ٹیلیفون، تعلیمی سند، نوکری وغیرہ، وغیرہ، وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جب آپ اپنی گاڑی پر سوار جا رہے ہوتے ہو تو وہ سڑک پر ننگے پاؤں یا پیدل جا رہے ہوتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتے تھے اور نا کر سکے اور تمہارے پاس تعلیم کی سند موجود ہے؟
کتنے بے روزگار شخص ہیں جو فاقہ کشی کرتے ہیں اور آپ کے پاس ملازمت اور منصب موجود ہے؟
اور وغیرہ وغیرہ وغیرہ ہزاروں باتیں لکھی اور کہی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔
کیا خیال ہے ابھی بھی اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور انکا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں آیا





Tuesday, May 9, 2017

Biggest Fraud !!!

*فراڈ*
*4 کروڑ = 42 لاکھ= 65 ہزار*
*یہ نوجوان لندن کے ایک بین الاقوامی بینک میں معمولی سا کیشیر تھ*
 *اس نے بینک کے ساتھ ایک ایسا فراڈ کیا جس کی وجہ سے وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا فراڈیا ثابت ہوا‘*
 *وہ کمپیوٹر کی مدد سے بینک کے لاکھوں کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے ایک‘ ایک پینی نکالتا تھا*
*اور یہ رقم اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا تھا،*
*وہ یہ کام پندرہ برس تک مسلسل کرتا رہا*
*یہاں تک کہ اس نے کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے کئی ملین پونڈ چرا لیے،*
*آخر میں یہ شخص ایک یہودی تاجر کی شکایت پر پکڑا گیا‘*
*یہ یہودی تاجر کئی ماہ تک اپنی بینک سٹیٹ منٹ واچ کرتا رہا*
*اور اسے محسوس ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ سے روزانہ ایک پینی کم ہو رہی ہے*
*چنانچہ وہ بینک منیجر کے پاس گیا‘ اسے اپنی سابق بینک اسٹیٹمنٹس دکھائیں*
*اور اس سے تفتیش کا مطالبہ کیا...*
*منیجر نے یہودی تاجر کو خبطی سمجھا ‘*
*اس نے قہقہہ لگایا اور دراز سے ایک پاؤنڈ نکالا*
*اور یہودی تاجر کی ہتھیلی پر رکھ کر بولا
*’’ یہ لیجئے میں نے آپ کا نقصان پورا کر دیا ‘‘*
*یہودی تاجر ناراض ہو گیا‘*
*اس نے منیجر کو ڈانٹ کر کہا
*’’میرے پاس دولت کی کمی نہیں‘*
*میں بس آپ لوگوں کو آپ کے سسٹم کی کمزوری بتانا چاہتا تھا‘‘*
*وہ اٹھا اور بینک سے نکل گیا،*
*یہودی تاجر کے جانے کے بعد منیجر کو شکایت کی سنگینی کا اندازا ہوا‘*
*اس نے تفتیش شروع کرائی تو شکایت درست نکلی*
*اور یوں یہ نوجوان پکڑا گیا...*
*یہ لندن کا فراڈ تھا لیکن ایک فراڈ پاکستان میں بھی ہو رہا ہے‘*
*اس فراڈ کا تعلق پیسے کے سکے سے جڑا ہے،*
*پاکستان کی کرنسی یکم اپریل 1948ء کو لانچ کی گئی تھی‘*
*اس کرنسی میں چھ سکے تھے‘*
*ان سکوں میں ایک روپے کا سکہ‘*
*اٹھنی‘ چونی‘ دوانی‘ اکنی‘ ادھنا*
*اور ایک پیسے کا سکہ شامل تھے‘*
*پیسے کے سکے کو پائی کہا جاتا تھا،*
*اس زمانے میں ایک روپیہ 16 آنے*
*اور 64 پیسوں کے برابر ہوتا تھا...*
*یہ سکے یکم جنوری 1961ء تک چلتے رہے‘*
*1961ء میں صدر ایوب خان نے ملک میں عشاریہ نظام نافذ کر دیا*
*جس کے بعد روپیہ سو پیسوں کا ہو گیا*
*جبکہ اٹھنی‘ چونی‘ دوانی اور پائی ختم ہو گئی*
*اور اس کی جگہ پچاس پیسے‘ پچیس پیسے‘ دس پیسے‘ پانچ پیسے*
*اور ایک پیسے کے سکے رائج ہو گئے...*
*یہ سکے جنرل ضیاء الحق کے دور تک چلتے رہے*
*لیکن بعد ازاں آہستہ آہستہ ختم ہوتے چلے گئے*
*یہاں تک کہ آج سب سے چھوٹا سکہ ایک روپے کا ہے*
*اور ہم نے پچھلے تیس برسوں سے*
*ایک پیسے‘ پانچ پیسے‘ دس پیسے اور پچیس پیسے کا کوئی سکہ نہیں دیکھا*
*کیوں...؟*
*کیونکہ اسٹیٹ بینک یہ سکے جاری ہی نہیں کر رہا*
*لیکن آپ حکومت کا کمال دیکھئے*
*حکومت جب بھی پیٹرول‘ گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ کرتی ہے*
*تو اس میں روپوں کے ساتھ ساتھ پیسے ضرور شامل ہوتے ہیں*
*مثلاً آپ پیٹرول کے تازہ ترین اضافے ہی کو لے لیجئے‘*
*حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 92 پیسے اضافہ کیا*
*جس کے بعد پٹرول کی قیمت 62 روپے 13 پیسے‘*
*ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 62 روپے 65 پیسے*
*اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 54 روپے 94 پیسے ہو گئی ...*
*اب سوال یہ ہے کہ ملک میں پیسے کا تو سکہ ہی موجود نہیں ھے*
*لہٰذا جب کوئی شخص ایک لیٹر پیٹرول ڈلوائے گا تو کیا پمپ کا کیشیر اسے 877 پیسے واپس کرے گا...؟*
*نہیں وہ بالکل نہیں کرے گا*
*چنانچہ اسے لازماً 62 کی جگہ 63 روپے ادا کرنا پڑیں گے...*
*یہ زیادتی کیوں ہے...؟*
*اب آپ مزید دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘*
*پاکستان میں روزانہ 3 لاکھ 20 ہزار بیرل پیٹرول فروخت ہوتا ہے،*
*آپ اگراسے لیٹرز میں کیلکولیٹ کریں*
*تو یہ 5 کروڑ 8 لاکھ 80 ہزار لیٹرز بنتا ہے،*
*آپ اب اندازا کیجئے اگر پٹرول سپلائی کرنے والی کمپنیاں* *ہر لیٹر پر877 پیسےاڑاتی ہیں*
 *تویہ کتنی رقم بنے گی...؟*
*یہ 4 کروڑ 42 لاکھ 65 ہزار روپے روزانہ بنتے ہیں جناب....*
*یہ رقم حتمی نہیں کیونکہ تمام لوگ پیٹرول نہیں ڈلواتے‘*
*کچھ صارفین ڈیزل اور مٹی کا تیل بھی خریدتے ہیں*
*اور زیادہ تر لوگ پانچ سے چالیس لیٹر پیٹرول خریدتے ہیں*
*اور بڑی حد تک یہ پیسے روپوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں*
*لیکن اس کے با وجود پیسوں کی ہیرا پھیری موجود رہتی ہے،*
*مجھے یقین ہے اگر کوئی معاشی ماہر اس ایشو پر تحقیق کرے ‘*
*وہ پیسوں کی اس ہیرا پھیری کو مہینوں‘*
*مہینوں کو برسوں*
*اور برسوں کو 30 سال سے ضرب دے*
*تو یہ اربوں روپے بن جائیں گے گویا ہماری سرکاری مشینری*
*30 برس سے چند خفیہ کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا رہی ہے*
 *اور حکومت کو معلوم تک نہیں...*
*ہم اگر اس سوال کا جواب تلاش کریں*
*تو یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا اسکینڈل ثابت ہوگا...*
*یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کرپشن کا والیم*
*ساڑھے چار کروڑ روپے نہ ہو*
*لیکن اس کے با وجود یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا*
*کہ جب اسٹیٹ بینک پیسے کا سکہ جاری ہی نہیں کر رہا*
*تو حکومت کرنسی کو سکوں میں کیوں ماپ رہی ہے*
*اور ہم ’’راؤنڈ فگر‘‘ میں قیمتوں کا تعین کیوں کرتے ہیں...؟*
*ہم 62 روپے 13 پیسوں کو*
*62 روپے کر دیں یا پھر پورے 63 روپے کر دیں*
*تا کہ حکومت اور صارفین دونوں کو سہولت ہو جائے،*
 *حکومت اگر ایسا نہیں کر رہی تو پھر اس میں یقیناً کوئی نہ کوئی ہیرا پھیری ضرور موجود ہے*
*کیونکہ ہماری حکومتوں کی تاریخ بتاتی ہے*
*ہماری بیورو کریسی کوئی ایسی غلطی نہیں دہراتی*
 *جس میں اسے کوئی فائدہ نہ ہو...!!!*
*پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جاری فراڈ*
Share it ...



سموسے کی دکان۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا کاروبار کسی کی ملازمت سے ہزار گناہ بہتر ہوتا ہے نوکری نہیں کاروبار تلاش کریں۔
ایک بڑی کمپنی کے گیٹ کے سامنے ایک مشہور سموسے کی دکان تھی.
لنچ ٹائم میں اکثر کمپنی کے ملازم وہاں آ کر سموسے کھایا کرتے تھے.
 ایک دن کمپنی کے ایک منیجر، سموسہ کھاتے کھاتے سموسے والے سے مذاق کے موڈ میں آگئے.
 منیجر صاحب نے سموسے والے سے کہا،" یار شاہد، تمھاری دکان تم نے بہت اچھی طرح سے سیٹ کی ہے، لیکن کیا تمہیں نہیں لگتا کے تم اپنا وقت اور ٹیلینٹ سموسے بیچ کر برباد کررہے ہو؟ سوچو، اگر تم میری طرح اس کمپنی میں کام کر ہے ہوتے تو آج کہاں ہوتے؟... ہوسکتا ہے شاید آپ بھی آج منیجر ہوتے میری طرح..."
اس بات پر سموسے والے شاہد نے بڑا سوچا.
اور بولا." سر یہ میرا کام آپکے کام سے بہتر ہے.
10 سال پہلے جب میں ٹوکری میں سموسے فروخت کرتا تھا تبھی آپ کی جاب لگی تھی، تب میں مہینہ بھر میں ہزار روپے کماتا تھا اور آپ کی تنخواہ تھی 10 ہزار.
ان دس سالوں میں ہم دونوں نے خوب محنت کی..
آپ سپروائز سے منیجر بن گئے.
 اور میں ٹوکری سے اس مشہور دکان تک پہنچ گیا.
آج آپ مہینے کے 50,000 کماتے ہیں
اور میں مہینے کے 2,00,0000 روپے.....
لیکن اس لئے میں اپنے کام کو آپ کے کام سے بہتر نہیں کہہ رہا ہوں.
 بلکہ یہ تو میں بچوں کی وجہ سے کہہ رہا ہوں.
ذرا سوچئے.....! کہ سر میں نے تو بہت کم روپوں سے دھندہ شروع کیا تھا. مگر میرے بیٹے کو یہ سب نہیں جھیلنا پڑے گا.
 میری دکان میرے بیٹے کو ملے گی. میں نے زندگی میں جو محنت کی ہے، اس کا فائدہ میرے بچے اٹھائیں گے.
جبکہ آپ کی زندگی بھر کی محنت کا فائدہ آپ کے مالک کے بچے اٹھائیں گے...
اب آپ اپنے بیٹے کو ڈائریکٹ اپنی پوسٹ پر تو نہیں بٹھا سکتے نا...؟
 اسے بھی آپ ہی کی طرح زیرو سے شروعات کرنی پڑے گی.... اور اپنی مدت کے اختتام میں وہیں پہنچ جائے گا جہاں ابھی آپ ہو.
 جبکہ میرا بیٹا بزنس کو یہاں سے اور آگے لے جائے گا....
اور اپنے دور میں ہم سب سے بہت آگے نکل جائے گا...
 اب آپ ہی بتائیے کہ کیسے میرا وقت اور ٹیلینٹ برباد ہو رہا ہے؟"....
منیجر صاحب نے سموسے والے کو 2 سموسے کے 20 روپے دئیے اور بغیر کچھ بولے وہاں سے کھسک لئے....
 بہرحال اپنا کاروبار کسی کی ملازمت سے ہزار گناہ بہتر ہوتا ہے نوکری نہیں کاروبار تلاش کریں۔

Saturday, May 6, 2017

Saftey For Our Health

فارمی مرغی اور انڈے نه کھائیں 
" برڈ فلو" پھیلا هے لاکھوں مرغیاں اس بیماری کی وجه سے مرگئ ہیں یا مر. رہی ہیں.
اس میسج کو زیاده سے زیاده شئیر کریں.

like us
Follow us
& Visit our Blog 
for stay Up-to-date





Safty For Summer Season

*موسم سخت ہونے والا ہے ضرور پڑھیں اور عمل کریں*
*دھوپ میں لو لگنے سے موت کیوں ہوتی ہے؟*
ہم سب دھوپ میں گھومتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو دھوپ لگ جانے کی وجہ سے اچانک موت کیوں ہو جاتی ہے؟
👉 ہمارے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ 37 ° ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اس درجہ حرارت پر ہی ہمارے جسم کے تمام اعضاء صحیح طریقے سے کام کر پاتے ہیں.
👉 پسینے کے طور پر پانی باہر نکال کر جسم 37 ° سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے، مسلسل پسینہ نکلتے وقت پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہے.
👉 اس کے علاوہ بھی پانی بہت کارآمد ہے، جسم میں پانی کی کمی ہونے پر ہمارا جسم پسینے کے ذریعے ہونے والے پانی کے اخراج کو روکتا ہے. (یعنی بند کر دیتا ہے)
👉 جب باہر درجہ حرارت 45 ° ڈگری سے زائد ہو جاتا ہے اور جسم کا کولنگ سسٹم ٹھپ ہو جاتا ہے، تب جسم کا درجہ حرارت 37 ° ڈگری سے زیادہ ہونے لگتا ہے.
👉 جسم کا درجہ حرارت جب 42 ° سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تب خون گرم ہونے لگتا ہے اور خون میں موجود پروٹین پکنے لگتا ہے.
👉 پٹھے کڑک لگتے ہے اس دوران سانس لینے کے لئے ضروری پٹھے بھی کام کرنا بند کر دیتے ہیں.
👉 جسم کا پانی کم ہو جانے سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، بلڈ پریشر low ہو جاتا ہے، اہم عضو (بالخصوص دماغ) تک خون کی رسائی رک جاتی ہے.
👉 انسان کوما میں چلا جاتا ہے اور اس کے جسم کے ایک کے بعد ایک عضو دھیرے دھیرے کام کرنا بند کر دیتے ہیں، اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے.
👉 گرمی کے دنوں میں ایسے مسائل ٹالنے کے لئے مسلسل پانی پیتے رہنا چاہئے، اس سے ہمارے جسم کا درجہ حرارت 37 ° ڈگری برقرار رہ پائے گا اس بات پر ہمیں توجہ دینا چاہئے.
آنے والے کچھ دنوں میں Equinox اكونكس کے گہرے اثرات خطے کے موسم پر پڑیں گے. کئی علاقے اس کی زد میں ہوں گے.
براہ مہربانی دوپہر 12 سے 3 کے درمیان زیادہ سے زیادہ گھر، کمرے یا آفس کے اندر رہنے کی کوشش کریں.
درجہ حرارت 40 ڈگری کے آس پاس ہوگا.
موسم کی یہ سختی جسم میں پانی کی کمی اور لو لگنے والی صورتحال پیدا کر دے گی.
(یہ اثرات خط استوا کے ٹھیک اوپر سورج چمکنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں.)
براہ مہربانی خود کو اور اپنے متعلقین کو پانی کی کمی میں مبتلا ہونے سے بچائیں.
بلا ناغہ کم از کم 3 لیٹر پانی ضرور استعمال کریں. گردے کی بیماری والے فی دن کم از کم 6 سے 8 لیٹر پانی پینے کی کوشش کریں..
جہاں تک ممکن ہو بلڈ پریشر پر نظر رکھیں. کسی کو بھی لو لگنا یعنی ہیٹ اسٹروک ہو سکتا ہے.
ٹھنڈے پانی کے ساتھ نہائیں. گوشت کا استعمال بند یا کم از کم کریں. پھل اور سبزیاں کھانے میں زیادہ استعمال کریں.
گرمی کی لہر کوئی مذاق نہیں ہے. ایک غیر استعمال شدہ موم بتی کو کمرے سے باہر یا کھلے میں رکھیں، اگر موم بتی پگھل جاتی ہے تو یہ سنگین صورت حال ہے.
سونے کے کمرے اور دیگر کمروں میں 2 نصف پانی سے بھرے اوپر سے کھلے برتنوں کو رکھ کر کمرے کی نمی برقرار رکھی جا سکتی ہے.
اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کو نم رکھنے کی کوشش کریں. اور مفاد عامہ میں اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ نشر کریں.
Summer Saftey Tips


Add caption

Information Technology Promotion